پی ٹی آئی کے روپوش رہنما اور انتخابی حکمتِ عملی: ’آج کل معلوم نہیں ہوتا رات جیل میں گزرے گی یا عقوبت خانے میں‘
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد سے جماعت کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی اور چیئرمین عمران خان سمیت متعدد رہنما جیل میں ہیں، جبکہ دیگر روپوش ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال میں پی ٹی آئی کی انتخابی حکمتِ عملی بھی
پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ "آج کل یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اگلی رات جیل میں گزرے گی یا عقوبت خانے میں۔" ان کے مطابق "حکومت ہمارے رہنماؤں کو ہراساں اور دباؤ ڈالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔"
پی ٹی آئی کے روپوش رہنماؤں کے لیے بھی صورتحال مشکل ہے۔ وہ کسی خطرے سے بچنے کے لیے اپنے گھروں یا دیگر مقامات پر چھپے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے پارٹی کے کاموں میں حصہ لینا بھی مشکل ہے۔
پی ٹی آئی کی انتخابی حکمتِ عملی بھی متاثر ہوئی ہے۔ جماعت کو اپنے رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں کے بعد ملک بھر میں مہم چلانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ "حکومت نے ہماری حکمتِ عملی کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔" ان کے مطابق "حکومت نے ہمارے رہنماؤں کو گرفتار کر کے ہماری مہم کو سست کرنے کی کوشش کی ہے۔"
پی ٹی آئی کے لیے آنے والے دن مشکل ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت کا کریک ڈاؤن جاری رہا تو جماعت کو انتخابی مہم میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

Post a Comment